ضلع خیبر باڑہ میں صورتحال کشیدہ ہوگئی ۔۔۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے پولیس کو پسپا کرکے ڈنڈے اور حفاظت
شیلڈز بھی قبضے میں لے لیں ۔ گورنر راج و ایمرجنسی نفاذ کے خلاف احتجاج کا آج تیسرا روز ہے
اس کے علاؤہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی عوامی احتجاج جاری ہے
جگہ جگہ پولیس اور عوام۔کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں
ہم سمجھتے کہ وفاقی حکومت نے بہت غلط فیصلہ لیا ہے ایک جمہوری حکومت جس کو دو تہائی اکثریت حاصل تھی کو بغیر کسی جواز کے گرایا گیا صرف اس لئیے کہ کے پی کے کا وزیر اعلی سہیل آفریدی عمران خان کا خاص آدمی ہے اور وہ کسی دباؤ کو قبول نہیں کررہا تھا
اور عمران کے علاج معالجے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر حکومت نے عمل نہ کرکے انسانی حقوق کی وائلیشن کی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کو ردی کی ٹوکتی میں ڈال دیا ایک سال سے عمران خان قید تنہائی میں ہیں ان کی ملاقات بند ہے یہ جائز مطالبات تھے اور ہیں جن کے لئیے پی ٹی آئی متعدد بار عدالت گئی پارلیمنٹ گئی مگر ایک نہ سنی گئی
اپوزیشن اتحاد نے عمران خان کے علاج معالجہ اور ملاقاتیوں کا مطالبہ کیا مگر حکومت نہ مانی
یہ آئین کے آرٹیکل 10 کی کھلی خلاف ورزی ہے
جب حکمران عدالتی احکامات نہ مانیں تو پھر ملک میں رائٹ اینڈ مائٹ کا قانون ہو جاتا ہے اس کے خلاف پی ٹی آئی نے 27 ستمبر کو لانگ مارچ کا اعلان کیا اور اسلام آباد جانے کا فیصلہ کیا
تو حکومت نے اسلام آباد کو کنٹینرز سے بھر دیا راستے مسدود کر دیئے گئے رینجر طلب کی گئی دیگر صوبوں سے پولیس کی اضافی نفری طلب کی گئی آئی جی کے پی کو چیف سیکرٹری کو طلب کرکے پابند کیا گیا کہ آپ نے عوامی جلوس کو کے پی سے اسلام آباد جانے نہیں دینا ھے
مگر وہ اس احتجاج کو روکنے میں ناکام رہے کیونکہ وزیر اعلیٰ کے پی کے سہیل خان آفریدی اس کو لیڈ کررہا تھا جس پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگایا گیا انہوں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے چندے کی اپیل کی تو کروڑوں روپے اکاؤنٹ میں بھیجے گئے جو حکومت نے سیز کردیئے
اس کے بعد سہیل آفریدی نے چندہ مہم کا آغاز کیا مختلف پارٹیوں میں کروڑوں روپے مالیت کا چندہ جمع کیا گیا
جس سے وہ اس لانگ مارچ کو کامیاب کرنے کے قابلِ ہوئے حکومت نے اعلان کیا کہ ہم ایک شخص کو بھی پنجاب میں داخل ہونے نہیں دیں گے کے پی کے کو پنجاب سے کاٹ دیا گیا بند کر دیا گیا
حکومت کی بوکھلاہٹ واضح تھی اور اس پریشانی میں اضافی کیا سہل خان آفریدی نے اور مارچ کو 27 ستمبر کو ملتوی کرکے چار اکتوبر کر دیا اس کا مطلب تھا کہ وہ حکومت کو پریشرائز کرکے اپنے مطالبات منوانا چاہتے تھے
حکومت کا روز کا تقریباً ایک ارب روپیہ لگ رہا تھا سیکورٹی فورسز کی سہولیات پر اور کنٹینرز کا کرایہ الگ ہے
مگر حکومت نے گورنر راج کی دھمکیا دینا شروع کر دیں ایمرجنسی لگانے کی بات کی گئی ساتھ مذاکرات بھی ہوئے مگر حکومت عمران خان کو کوئی رعایت دینا نہیں چاہتی تھی اس لئیے ہر بار مذکرات سے فرار کے بہانے تلاش کئے گئے
یہ ن لیگ حکومت شہباز شریف اور نوازا شریف مریم نواز کی خواہش تھی کہ وہ عمران خان کو جھکائیں گے اور معافی مانگنے پر مجبور کریں گے مگر وہ مرد کا بچہ شیر کی طرح کھڑا رہا کھڑا ہے
حکومت کی ہر توقع اور امید عمران خان نے اپنے عمل سے توڑ دی جس سے مزید غم وغصہ بڑہ گیا اپوزیشن لیڈر اور قائد تحریک تحفظ آئین پاکستان محمود خان اچکزئی صاحب نے کئی مرتبہ حکومت کو مذکرات کی دعوت دی مگر حکومت نہ مانی اور کے پی کے میں پی ٹی آئی کی حکومت کو مختلف طریقوں سے بلیک میل کیا گیا
کبھی این ایف سی ایوارڈ کے پئسے روک کر کبھی صوبے کی گندم روک کر کبھی
صوبے کے وزیر اعلی کی بےعزتی کرکے سہیل آفریدی نے جب سے وزارت اعلیٰ کا حلف اٹھایا تب سے وہ عمران خان سے ملاقات کی کوشش کرتا رہا مگر نہ ہونے دی گئی
آخری وقت میں جب سہیل آفریدی نے صوابی انٹر چینج سے آگے بڑہنے کا فیصلہ کیا اور لانگ مارچ کو آگے لے جانے کا اعلان کیا تو حکومت کے اوسان خطا ہوگئے تھے اور آخری وقت میں مولانا فضل الرحمان صاحب کو مذکرات کا ٹاسک دیا گیا انہوں نے کوشش شروع کی 11اکتوبر کی صبح چھ بجے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف سے ملاقات کی گئی اور طئے کیا گیا کہ پی ٹی آئی کے جائز مطالبات مان لئیے جائیں گے لانگ مارچ منسوخ کرایا جائے
اس سلسلے میں مولانا فضل الرحمان صاحب نے کے پی کے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانا تھا سہل آفرید اور ان کی ٹیم سے ملاقات کا ٹائم۔لیا گیا
سہیل آفریدی اسی میٹنگ کے لئے لانگ مارچ سے واپس وزیر اعلیٰ ہاؤس آئے
مولانا صاحب کے وہاں پہنچنے سے پہلے وزیر اعظم کی ایڈوائزری پر صدر پاکستان آصف علی زرداری نے کے پی کے میں گورنر راج نافذ کردیا جو سراسر دھوکا تھا جو پی آتی آئی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کیا گیا
اصل۔میں حکومت اسلام آباد تک پنجاب میں مارچ کو کسی صورت داخل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کر چکی تھی
کیونکہ حکومت کچھ عرصہ پہلے انڈیا میں کاکروچ کا احتجاج اور بنگلہ دیش میں احتجاج دیکھ چکی تھی اور اس کو ڈر تھا کہ اگر پنجاب کی عوام بھی ایسے نکل آئی جیسے کے پی کی کی نکلی ہے تو پھر ان کا اقتدار ختم ہو جائے گا
اس لئیے حکومت کے لئے یہ زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا جس کی وجہ سے انتہائی قدم اٹھا کر گورنر راج نافذ کردیا گیا
اس سے دو واضح مقاصد حاصل کئے گئے ایک تو اب حکومت کے پی کے میں آپریشن کرے جو کچھ کرے وہ آزاد ہے
دوئم لانگ مارچ جو اسلام آباد کی طرف سیلاب کی طرح بڑہ رہا تھا وہ خطرہ اب تک گیا ہے سہل خان آفریدی گرفتار کیا گیا جو غیر قانونی کام ھے مگر اس سے احتجاج رک گیا ہے حکومت نے کچھ سکھ کا سانس لیا ہے
اب کے پی کے اندر عوام احتجاج میں مصروف ہوگئی ہے اور صوبے کے اندر حالات بہت حد تک خراب ہیں صوبے کے مختلف اضلاع میں عوام احتجاج کررہی ہے اس کو کنٹرول کرنے کی بھر پور کوشش جاری ہے پی ٹی آئی کی کوئی بڑی لیڈر شپ اب میدان میں نہیں ہے جس کی وجہ سے عوام منتشر ہے
کے پی کے صوبہ مالی معاشی لحاظ سے پنجاب سے آگے تھا امن بھی کافی حد تک قائم ہوگیا تھا گو کہ اب بھی فاٹا میں دہشت گردانہ کارروائی جاری تھیں مگر بلوچستان کی نسب کے پی کے میں بہت تک امن قائم تھا
مگر حکومت نے موقف اپنایا کہ ہم نے گورنر راج اس لئیے لگایا کہ کے پی کے حکومت وہاں وفاق کو دہشت گردی کے خلاف آپریشن کرنے نہیں دے رہی تھی جو بہت کمزور موقف ہے
اب کے پی کے کی معیشت کو بھی بہت نقصان ہوگا اور امن آمنا بھی خراب ہوگا مزید وفاقی حکومت وہاں کنٹرول نہیں کر پائے گی یہ ہمارا تجزیہ ہے وقت اسے ثابت کریگا کیوں کہ کے پی کے میں وفاقی حکومت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے اسی وجہ سے یہ وہاں ناکام ھونے
ان حالات میں پی ٹی آئی قیادت نے قومی اسمبلی سینیٹ اور صوبائی اسمبلی سے مجموعی استعفیٰ کی بات کی ہے اگر ایسا ہوا تو ملک کو میں جلد الیکشن کی طرف جاتا دیکھ رہا ہوں یا پھر عاصم منیر مارشل لاء نافذ کر دیں اگر ایسا ہوا تو یہ اس ڈوبتی معیشت کو مزید ڈبو دے گا مہنگائی نے غربت نے پہلے سے عوام کو تباہ کردیا ہے مارشل لاء سے مزید تباہی ہوگی اور اس کی ساری زمہ داری ن۔لیگ اور پیپلز پارٹی پر عائد ہوگی
کیونکہ اگر عمران خان جو جیل میں بند ہے کی ملاقات کھول دی جائے ان کو ذاتی معالج تک رسائی دی جاتی تو اس سے حکومت نہیں گرتی یہ اپنے پانچ سال اسی طرح پورے کر تے مگر اس سے شاید ن لیگ کی قیادت کی آنا کو ٹھیس پہنچتی جو بہت مقدس ہے اسٹیبلشمنٹ اور ن لیگ کی آنا سلامت رہے ملک ٹوٹ جائے بھی کوئی بات نہیں اس سے ان کے خلاف عوام میں مزید نفرت بڑھی ہے
اور پی ٹی آئی سیاسی شہید بن گئی ہے کے پی کے میں جس کا سیاسی نقصان ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو ہی ہوگا

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں
السادات نیوز پر اپنی قیمتی رائے کا اظہار کرنے کے لیے آپ کا شکریہ۔ براہ کرم اخلاقی دائرے میں رہ کر کمنٹ کریں